Friday, May 10, 2013

Message of Islam (Part 1) ( In Urdu) by (Late) Prof. Nisar Ahmed Faruqi (Part 1)

The following article in Urdu was written by Late Prof. Nisar Ahmed Faruqi (Head Dept۔  of Arabic, Delhi University). In this article the author presents to us a very clear picture of Islam. The nature of this article shows how efficiently he addresses the secular population of Asia.  He also tries to clear some of the misconceptions related to the Faith of Islam. I present this article in parts so that it is easy for the readers to grasp. 
May Allah reward the author for his effort to spread the Message of Islam, aameen.

NAFaruqi.Jpg
اسلام کا پیغام 
اسلام دنیا کے بڑے مذہبوں میں سے ایک ہے۔ اس کی بنیاد کسی فلسفے پر نہیں بلکہ وحی الہی یعنی (DIVINE GUIDANCE) پر ہے۔ انسان کا علم بھی محدود ہے، سمجھ بھی ناقص ہے، اسلئے زندگی، کائنات اور حقیقت اعلی (ULTIMATE TRUTH) کو جاننے کے لئے انسان کا علم کافی نہیں ہو سکتا، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہدایت اور رہنمائی خدا کی طرف سے ملے۔ ہدایت خدا کے خاص بندوں کے ذریعے ہر زمانے میں اور ہر قوم کو ملتی رہی ہے۔ قران کہتا ہے لکل ھاد ہر قوم میں ہدایت دینے والا بھیجا گیا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں انکو نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔ نبی کا مفہوم ہے ان باتوں کی خبر دینے والا جنہیں ہم دیکھ نہیں رہے ہیں۔ جیسے کوئی شخص ایک بلند ٹیلے پر کھڑا ہو اور ٹیلے کے دونوں طرف ہونے والی باتوں کو دیکھ رہا ہو۔ اس طرف کھڑے لوگوں کو دوسری طرف کی باتیں اپنی آنکھوں دیکھی بتا رہا ہو۔
رسول کے معنی ہیں قاصد ، ایلچی ، نمائندہ یا ہرکارہ۔ اللہ کی طرف سے اسکے احکام بندوں تک پہنچانے والے کو رسول کہتے ہیں۔ اللہ کے ان خاص بندوں میں سے صرف 20-25 نبیوں اور رسولوں کےنام قرآن میں ملتے ہیں۔ مگر خود قرآن  کہتا ہے کہ کچھ  رسولوں کا ہم نے  ذکرکیا ہے اور کچھ کا  ذکر نہیں کیا۔ حدیث کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار (124000 ) پیغمبر آئے ہیں۔ ہر قوم اور ہر ملک میں آئے ہیں۔ ہندوستان بھی ایک بہت بڑا ملک ہے۔ یہاں کی تہذیب بھی ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہاں بھی یقینا بہت سے نبی آئے ہونگے۔ قرآن میں ایک پیغمبر کا نام ذو الکفل ملتا ہے۔ اور انکے بارے میں کہیں دوسری جگہ کچھ تفصیل معلوم نہیں ہوتی۔ بعض مسلمان علما  کا یہ خیال ہے کہ کفل دراصل کپل کی عربی شکل ہے۔ ذوالکفل کے معنی ہیں کپل والا ۔ مہاتما گوتم بدھ کپل وستو میں پیدا ہوئے تھے۔  یہ انکی طرف اشارہ ہے۔ کچھ عالموں نے شری کرشن جی مہاراج کو بھی نبی مانا ہے۔ لیکن یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہزاروں برس کے الٹ پھیر میں قصے کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں۔ انسان کا حافظہ بہت سی باتون کو بھول جاتا ہے۔ بہت سی باتیں اپنی طرف سے بڑھا دیتا ہے۔ کچھ باتوں کو اسکی ناقص عقل سمجھ نہیں پاتی۔ اسلئے قصوں ، کہانیوں میں اور دیومالاؤں میں ان بزرگوں کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اسے تاریخی سچائی سمجھنا غلط ہوگا۔
اسلام کے معنی ہیں  امن ،سلامتی ، شانتی۔ سماج کا فساد سے، گڑبڑ اور بے ایمانی سے پاک صاف رہنا اسلام کا مقصد ہے۔ قرآن کریم نے بعض قوموں پر یہی الزام لگایاہے کہ  وہ اصلاح سدھار اور ترقی کے نام پر بگاڑ اور تباہی پیدا کر رہے ہیں۔ دور کیوں جائیں ہمارے زمانے میں دنیا بھر میں جو لاکھوں مہلک ہتھیار پھیل گئے ہیں یہ سب ترقی کے نام پر ہی تو ہوا ہے۔ اسلام کی ضد کفر اور شرک ہیں۔ ہمارے بہت سے بھائیوں کو یہ غلط فہمی ہےکہ کافر یا مشرک کہنا گالی دینے کے برابر ہے۔ حالانکہ ان دونوں لفظوں میں گالی دینے یا حقیر سمجھنے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ شرک کے معنی ہیں شریک بنانا ، جو کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ خدا کے ساتھ کوئی اور بھی کائنات کا چلانے والا،مارنے یا جلانے والا ہے اسے مشرک کہا جائےگا۔ جس کے لئے انگریزی میں لفظ ہے۔کافر کے معنی ہیں انکار کرنے والا، چھپانے والا۔ پرانی آسمانی کتابوں میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے آنے کی بشارتیں لکھی ہوئی تھیں۔جب آپ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو کچھ گروہوں نے آدی گرنتھوں  کی ان عبارتوں کو چھپانا یا بدلنا شروع کر دیا۔ اور حضرت محمد ﷺکو  سچانبی ماننے سے انکار کر دیا۔   انکے لئے عربی زبان میں لفظ کافر آتا ہے۔قرآن میں یہ لفظ صرف عرب قبیلوں کےCONTEXT میں استعمال ہوا ہے۔ان سےجہاد اور قتال کا حکم ہے۔قتال کے معنی قتل کرنا نہیں ہے بلکہ جنگ یا وار کے لئے آتا ہے۔اس میں بھی یہ کہا گیا ہے اگر وہ تمہیں  (یعنی عرب کے پہلے دور کے مسلمانوں کو ) تمھارے گھروں سے نکال دیں یا فتنہ پیدا کریں تو ان سے جنگ کرو۔اس جنگ کا حکم ایسا ہی ہے جیسے سری کرشن جی مہاراج نے بھگوت گیتا میں یدھ اور کرما کا فلسفہ بتایا ہے۔ جنگی تاریخ کے ماہریں جانتے ہیں کہ اکسر حالات میں امن قائم کرنے کے لئے جنگ کرنا ضروری ہو جاتا ہے جیسے ایک سرجن بدن کا فاسد مادہ دور کرنے کے لئے آپریشن کرتا ہے۔اسلام خود کو کوئی نیا مذہب نہیں بتاتا۔وہ دین فطرت ہے۔اللہ نے انسانوں سماج میں پہلے دن سے نبی ،رسول ، ہدایت دینے والے اور سیدھا راستہ دکھانے والےبھیجے ہیں،جو پیغمبر بعد میں آئے ہیں انھوں نے اگلے پیغمبروں کی تصدیق کی ہے۔ بعض نبیؤں کو صحائف آسمانی یعنی   DIVINE SCRIPTURESدئے گئے ہیں،ان میں سے بہت سے ضائع ہو گئے۔ بعض کی اصل نہیں ملتی ترجمے ملتے ہیں۔بعض کو بعد میں REVISE کیا گیا ہے۔ قرآن کا دعوی یہ ہے کہ تم ایسی ہی ایک سورۃ یعنی کم از کم تین فقرے لکھ کر دکھا دو، اور اپنے گواہوں کو بلا لوکہ وہی یہ فیصلہ کر دیں  تمھاری لکھی ہوئی عبارت قرآن کا مقابلہ کر رہی ہے یا نہیں۔  یہ دعوی اس عرب سماج میں کیا گیا جس کی فصاحت، بلاغت ، زبان و بیان پر قدرت کو آج بھی تسلیم کیا جاتا ہے، عرب اپنے سوا ساری دنیا  کی ساری قوموں کو عجم یعنی گونگا یا بے زبان سمجھتے ہیں۔مگر قرآن کے اس چیلنج کو کوئی قبول نہ کر سکا کہ اس جیسے تین چار فقرے لکھ دیتا۔پھر اللہ  نے قرآن میں یہ بھی اعلان کیا کہ اسے ہم نے اتارا ہے اور ہم خود ہی اسکی حفاظت کرینگے۔چنانچہ ہر زمانے میں مسلم سماج میں ہزاروں لاکھوں ایسے انسان رہے ہیں جنہیں  شروع سے آخر تک پورا قرآن زبانی یاد ہوتا ہے اور ہر سال رمضان کے مہینے میں پورا قرآن سنایا جاتا ہے۔
ایک بات اور بھی حیرت میں ڈالنے والی ہے، جو لوگ عربی زبان جانتے ہوں وہ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی مبارک زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کو محفوظ رکھا گیا ہے اور ان سے سیکڑوں کتابیں بن گئی ہیں ۔آپ کے ارشادات کو 'حدیث' کہا جاتا ہے اور حدیث کی روایت کو ایک نسل سے دوسری  نسل کی طرف ساڑھے پانچ لاکھ راویوں یعنی  TRANSMITTERS نے پہنچایا ہے – اور ان ساڑھے پانچ لاکھ راویوں کے حالات زندگی یعنیBIOGRAPHICAL NOTICESبھی جمع کئے گئے ہیں تاکہ یہ اندازہ  ہو سکے کہ ان میں کون سچا تھا اور کون جھوٹا تھا۔ مگر  جتنی حدیثیں  روایت ہوئی ہیں  انکا STYLE اورDICTION قرآن سے بلکل مختلف ہے۔اگر قرآن حضرت محمد ﷺ کا لکھا ہوا ہوتا تو اس کے اور حدیث کے   STYLEمیں کہیں کہیں تو یکسانی ضرور پائی جاتی ، مگر ایسا نہیں ہے۔قرآن 23 برسوں میں نازل ہوا اور کبھی لمبے عرصے تک کوئی وہی نہیں آتی تھی، وحی نہ آنے کا طویل تریں وقفہ پونے تین برس بتایا گیا  ہے۔ اس مدت میں آپ نے کبھی وحی آنے کا دعوہ نہیں کیا۔بلکہ نہایت بے چینی سے اسکا انتظار کرتے رہے
۔

Continued...(جاری)

The Fish and I: Ponder on this!

By a German Poet The other day, I went to the sea And asked the fish,  "Do you know who made the ocean and you in i...